Ads

Ads

True Story

True Story 


حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ ایک بہت کامیاب باپ تھے, ان کے گیارہ بیٹے تھے ان کی زندگی بہت غریب تھی کہ بچوں کی ضرورت بھی پوری نہیں ہو سکتی تھی یہاں تک کہ ان کے بچوں کو کھانے پینے کی چیزیں پوری نہیں 
ملتی تھیں . ایک مرتبہ انہوں نے اپنی بیٹی کو بلایا مگر اس کے آنے میں دیر لگی عمر بن عبدالعزیزؒ نے دوسری بار بلند آواز سے بلایا بیٹی کی بجاۓ ان کی بیوی آ گئی اور کہنے لگی بیٹی کی جگہ میں آئی ہوں جو کام ہے مجھے بتا دیجیئے آپؒ نے پوچھا بیٹی کیوں نہیں آرہی؟ بیوی نے جواب دیا بیٹی جو کپڑے پہنے ہوۓ تھی بوسیدہ ہونے کی وجہ سے وہ کپڑے پھٹ گئے ہیں اب وہ ساتھ والے کمرے میں کپڑے سی رہی ہے یہ وقت کا خلیفہ ہے جس کی بیٹی کے پاس بدن کے کپڑوں کے علاوہ کوئی اور کپڑے نہیں ہیں خلیفہ وقت کی اتنی غربت والی زندگی تھی مگر انہوں نے بچوں کو محبت سکھائی خدمت سکھائی نیکی سکھائی اور بچوں کے اندر خوب نیکی کا جذبہ پیدا کیا چنانچہ جب عمر بن عبدالعزیزؒ مرض الوفات میں تھے ان کا ایک دوست ملنے کےلیے آیا حضرتؒ لیٹے ہوئے تھے ان کے دوست نے کہا عمربن عبدالعزیز آپ نے بچوں کے ساتھ بھلا نہیں کیا آپؒ نے پوچھا کیوں؟
اُس نے کہا تم تو اپنی اولاد کےلیے کچھ بھی چھوڑ کر نہیں جا رہے
تم نے اپنی اولاد کے ساتھ اچھا نہیں کیا جب اس نے یہ الفاظ کہے تو عمر بن عبدالعزیزؒ اُٹھ کر بیٹھ گئے اورفرمانے لگے دیکھو اگر میری اولاد نیک بنی ہے تو میں ان کو اللہ کی سرپرستی میں دے کر جا رہا ہوں
کیونکہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں
وھو یتولی الصلحین اللہ نیکوکاروں کا خود سرپرست ہوتا ہے
میں ان کو اللہ کی سرپرستی میں دے کر جا رہا ہوں اگر میری اولاد نیک بنی تو میں ان کے فسق و فجور کے اوپر معاون نہیں بن سکتا
عمر بن عبدالعزیزؒ نے یہ جواب دیا اور پھر عمر بن عبدالعزیزؒ فوت ہو گئے
اللہ کی شان دیکھیں عمر بن عبدالعزیزؒ کے بعد جو بادشاہ بنا اس کو صوبے سنبھالنے کےلیے گورنروں کی ضرورت تھی اُس نے لوگوں سے مشورہ کیا مجھے عمر بن عبدالعزیز جیسا ایماندار دیانتدار انصاف کرنے والا اور اتنا وفا دکھانے والا بندہ چاہیے لوگوں نے بادشاہ کو بتایا تمہیں عمر بن عبدالعزیزؒ جیسا بندہ چاہیے تو ان کا بڑا بیٹا اپنے باپ جیسا ہے اس کو ساتھ لے لو چنانچہ وقت کے بادشاہ نے عمر بن عبدالعزیزؒ کے پہلے بیٹے کو گورنر بنایا جب وہ گورنر بنا اس کے باپ نے اسے محنت کرنا سکھایا تھا رزق حلال کمانا سکھایا تھا دیانت و امانت سکھائی تھی اس نے اتنا اچھا کام کیا چند دنوں کے بعد بادشاہ اس سے پوچھا کیا تمہارا کوئی اور بھائی بھی ہے گورنر نے بتایا میرا ایک چھوٹا بھائی بھی ہے وہ بالکل میری نقل ہے بادشاہ نے عمربن عبدالعزیزؒ کے ایک اور بیٹے کو صوبے کا گورنر بنا دیا جب دو گورنر بنے انہوں نے اتنا اچھا کام کیا کہ پھر اس بادشاہ نے تیسرے بھائی کو بھی گورنر بنا دیا
کتابوں میں لکھا ہے ایک ایسا وقت بھی آیا کہ عمر بن عبدالعزیزؒ کے گیارہ بیٹے گیارہ صوبوں کے ایک ہی وقت میں گورنر بنے ہوئے تھے 
یہ ہے کامیاب باپ
جس نے اپنے بچوں کو ایسی نیکی سکھائی کہ بعد والے لوگوں نے ان کے گیارہ بیٹوں کو ایک وقت میں گیاره صوبوں کا گورنر بنا دیا 
باپ کو چاہیئے کہ اولاد کی اچھی تربیت کرے ان کو اچھا انسان بنانے کےلیے دعائیں بھی کرے اور کوشش بھی کرے تمام والدین کو چاہیئے کہ اپنے بچوں کی تربیت اس انداز میں کریں کہ وہ حقوق اللہ کا بھی خیال رکھیں اور حقوق العباد کا بھی
ان کی دنیا بھی بن جائے
اور آخرت بھی سنور جائے۔۔
...
ا


Everything is in Control in the hand of Allah:

Everything is in Control in the hand of Allah:


Everything is in the hand of Allah. Without his permission we can’t move we can’t breathe we can’t eat. Allah is the Creator of all Universe. Allah is Almighty. Allah Create Day and Night. No one can create like him. Mostly people said wedding is made in heaven. Who create Heaven no one think? Mostly people think they will get the job they will survive? Who will give you survive? People are rich they think they never end. If they think then why not stop to die? People afraid of starving then why they die because of hunger? People don’t want sickness but why can’t they stop disease? People use tablets and everything to stop birth but still birth came? How it comes why not stop it? When you see in your daily life things you will think who and how it creates? Why Sky is blue? How River creates? How baby get food? How woman get milk when she feed? Hindu thinks gods are many then how many gods create such perfect things? Christians thinks Jesus is God(Nazobla). Then How human create this all things in perfect way? No human is perfect. Allah said in Quran in Surah Ikhlas

Say, "He is Allah, (who is) One,
Allah, the Eternal Refuge.
He neither begets nor is born,
Nor is there to Him any equivalent."





Every Marriage Story

Every Marriage Story:


وہ عورت جسے سارا دن فارغ رہنے کے طعنے ملتے ہیں..........
میں نے اس سے چار ماہ کا بیٹا چهین لیا اور اسے میکے چهوڑ آیا. دراصل میں گهر والوں کے روز روز کے طعنوں سے تنگ آ چکا تها.
"تمہاری بیوی کوئی کام نہیں کرتی"
مجهے بهی ایسا ہی لگنے لگا تها. آخر تم کیا
کرتی ہو سارا دن؟ برتن ، کپڑے ، گهر کی صفائی تو کام والی
کر جاتی ہے. لیٹی هی رهتی هو..
اس کے جانے کے بعد آج میری پہلی رات کا آغاز تها. میرے پہلو میں کوئی مجهے اپنی شرارتوں سے ہنسانے والا نہیں تها.
ہاں میرا بیٹا ضرور تها. جسے میں نے ابهی ابهی فیڈر دے کر سلایا تها.
آپ سمجهے نہیں....
دودهہ پلا نے سے لے کر بچے کو سلانے تک مجهے کیا کیا کرنا پڑا.میں تفصیل میں جانا چاہتا ہوں. میں اٹها اور کچن میں گیا. فیڈر کو صابن سے دهو کر میں نے چولہے پر پانی چڑهایا.فیڈر کو ابالا.
پهر دودهہ بنانے کیلئے پانی نیم گرم کیا اور اس میں پاوڈر ڈالا. تب کہیں جا کر ایک فیڈر تیار ہوا .
دودھ پلانے کے بعد میں اسے کندهے سے لگا کر تهپکتا رہا. تا کہ دودهہ ہضم ہو سکے. پهر اسکا پیمپر تبدیل کرنے کیلئے اسے لٹایا تو معلوم ہوا کہ بچے نے پاخانہ کیا ہوا ہے. اسے باتهہ روم لے جا کر صاف کر کے واپس آیا تو اس نے دودهہ کی الٹی کر دی. میں جلدی سے رومال کی اٹهانے کو لپکا..
خیر اسکو پیمپر دوبارہ لگایا اور بازووں میں جهولا کر سلانے لگا. دودهہ ابال کر اسے ٹهنڈا کیا اور فریج میں رکهہ دیا. وہ ہوتی تو ملک شیک بنا کر میرے ہاتهہ میں تهما دیتی.لیکن اب اتنے جهمیلوں میں کون پڑے. ابهی اپنی روٹی پکا کر کها لوں گا.
لیکن آٹا ؟؟؟
ابهی تو وہ گوندهنا پڑے گا.شکر ہے سالن تو پکا پڑا ہے. بس کٹوری میں ڈال کر اوون کا بٹن ہی دبانا ہے.میں ذرا بیڈ سے بکهیرا اٹها لوں. پیمپر .. وائپس...کهلونے... فیڈر ... شیٹس کو انکی مخصوص جگہوں پر رکها اور
روٹی. نہیں. صبح آفس جانے کیلئے کپڑے بهی تو استری کرنے ہیں.
میں لگا کپڑے استری کرنے.
ابهی شرٹ پریس کی تهی کہ بیٹا رونے لگا. اب کی بار میں نے اسکو جهولے میں ڈالا اور جهولا جهلانے لگا. بهوک سے میرا برا حال تها. اللہ اللہ کر کے بچے کو سلایا اور ایک ریسٹورنٹ پر کال کر کے کهانے ڈلیور کرنے کا آرڈر کیا. آدهے گهنٹے بعد کهانا میرے سامنے تها.
میں نے بڑے بڑے نوالوں میں کهانا ختم کر دیا کیونکہ میں جانتا تها کہ اگر بیٹا دوبارہ جاگ اٹها تو کهانا پڑا رہ جائیگا.پهر دوبارہ گرم کرنے کیلئے بهی ٹائم چاہیئے اور "مشقت" بهی. مجهے اکتاہٹ ہونے لگی. گهڑی گیارہ بجا رہی تهی.میں بستر پر ڈهہ سا گیا.
سائرہ وہ چادر ہی الماری سے نکال دو. میں اوڑھ کر سونا چاہ رہا ہوں
لیکن نہیں...اب خود ہی اٹھ کر لینی پڑے گی
ابهی میں یہ سوچ ہی رہا تها کہ یو.پی.ایس. بهی جواب دے گیا.پنکها بند ہوگیا.اس سے پہلے کہ گرمی کے سبب میرا بیٹا جاگ جاتا اور چلانے لگتا ..میں نے بیڈ سے چهلانگ لگائ اور جهٹ سے دستی پنکها الماری سے نکال لایا. میں اسکو پنکها جهلنے لگا اور ساتهہ ساتهہ نیند کی شدت سے خود بهی جهولنے لگا. بارہ بجے بجلی آئ اور میں فورا ہی سو گیا
دو بجے بیٹے کے رونے کی آواز سے میری آنکهہ کهل گئ.اچانک گہری نیند سے جاگنے پر میرے سر میں درد ہونے لگا. اسے بهوک لگی ہوئ تهی. میں سستی سے اٹها اور اسے ڈبے کا دودهہ بنا کر پلایا.اڑهائی بجے کے قریب بیٹا سو گیا اور میں بهی
اسکے بعد بیٹا کب جاگا اور کب تک روتا رہا مجهے نہیں معلوم. البتہ جب صبح آٹهہ بجے آنکهہ کهلی تو وہ رو ہی رہا تها. اور اسکے پیمپر سے مواد نکل کر بیڈ شیٹ میں جذب ہو رہا تها.جلدی سے اٹها. پیمپر تبدیل کیا.دودهہ پلایا
بیڈ شیٹ کو دهویا اور ایک دهلی ہوئ بیڈ شیٹ بچهائی. سوا نو ہو چکے تهے. ناشتے میں جو میں دہی کهاتا تها وہ سائرہ گهر میں بنا لیتی تهی. پتہ نہیں کس پہر بناتی تهی.
میں نے چائے بنانے کی غرض سے ساس پین میں دودهہ انڈیلا اور سوچنے لگا
کونسا وقت تها جب سائرہ مصروف نہیں ہوتی تهی. میری خدمت میں بهی کوئ کمی نہیں آنے دی.گهر میں صرف وہی تین کام تو نہ تهے جن کیلئے میں نے نوکرانی رکهہ دی تهی . ایک بچے کو سنبهالنا ہی کافی تها اسکو تهکن سے چور کرنے کیلئے. لیکن وہ مجهے وقت پر کهانا دیتی
میں تهک جاتا تو مجهے دباتی.میں اداس ہوتا تو مجهے هنساتی.اور میری دلجوئ کرتی. میں کاروباری معاملات میں کشمکش میں پڑ جاتا تو وہ میرا حوصلہ بندهاتی. میں سوچوں میں گم تها. دودهہ ابل کر شیلف پر آچکا تها. میں آہستہ آہستہ شیلف پر کپڑا لگانے لگا
تم کرتی کیا ہو سارا دن
واہ تمہارا جسم کیوں درد کرنے لگا
کونسا پہاڑ ڈهایا ہے تم نے
اور وہ پہلو بدل لیتی
شاید میرے طنزیہ جملوں پر آنسو بہاتی ہوگی
پر میں ظالم انسان نے پرواہ نہیں کی کبهی
کچهہ دیر بعد خود ہی سائیڈ بدل کر میرے چہرے پر جهک جاتی.
" آئ لو یو"
تو میں جوابا مسکرا دیتا.اور وہ اصرار کرنے لگتی .. نہیں آپ آئ لو یو تو بولیں مجهے اسکی شرارتیں یاد آنے لگیں.
صبح کے دس بج رہے تهے. اور کام پر نیند نه پوری هونے کی وجه سے چھٹی ماری
اور وہ سب اپنے اپنے کمروں میں مشغول تهے.جو ابهی کل ہی مجهے کہہ رہے تهے کہ تمہاری بیوی کوئ کام نہیں کرتی.
کسی نے مجهے چائے کا ایک کپ بهی بنا کر دینے کی زحمت نہیں کی.
میں نے بچے کو گاڑی میں ڈالا اور گاڑی ان راستوں پر دوڑا دی جو راستے مجهے ہمیشہ کیلئے سائرہ کے ساتھ جوڑنے والے تهے.
وهاں پہنچ کر میں نے دونوں هاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور وه ہمیشه کی طرح بڑا دل کر کے چلی آئی میرے ساتھ
قارئین شادی شده حضرات سے میری ریکویسٹ هے که ٹھیک هے سب کا حق آپ پر هے سب آپ کو مشوره دے سکتے هیں لیکن سب سے زیاده حق آپ پر آپ کی بیوی کا هے اسکو ٹائم دیں اس سے پوچھیں اسکی دلجوئی کریں سارا دن بیغیر مزدوری کے بنا لالچ آپکی آپکے بچوں کی آپ کے خاندان کی وه خدمت کرتی رهتی اور بدلے میں اسے کیا ملتا هے یه سب آپ جانتے هی ہیں ..
خدا راہ اپنی سوچ بدلیے کیونکہ یہی کچھ کل اپکی بیٹی یا بہن کے ساتھ بهی ہونا ہے.
Top of Form




Grammar


Grammar:

In English Grammar is Compulsory so you can understand words. Mostly grammar use in written form. In Offices Grammar are used in office work. If I have to introduce myself grammar is must.
Like My Name is Asif Ali Mirza.
Grammar Starts with Noun

Noun: 
mean Any Object, Name, Place or thing.
In this Sentence Asif Ali Mirza is Noun.
Second thing is Verb.

Verb: 
mean to do any Action. Like in this sentence I’m introducing Someone.
Understand by 2nd Example
He is working till Night.

Vowels


Vowels:

English base on Vowels. There are 5 Vowels.

A, I, E, O, U

Vowels are used in Everything, Name, Place, Sentences.
Example
you see in example Underline words are vowels. So, you will find in every sentence.
In Name Tariq Underline words are vowels. Without Vowels its incomplete. So, vowels are important in English.
Learn Vowels in your daily life. Then it will easier for you to understand English. Vowels make a words, Sentence and Name.
Start with your daily routine work you will know about it. It increases your vocabulary. Then you easy speak and write English without any hesitation. OR Either you can check in our Page
learn English From A till Z .

Contact Form

Name

Email *

Message *

Mobile Ads